گناہ و ناجائز

جیز کیش اکاؤنٹ پر لوڈ کرنے پر ملنے والے فری منٹس استعمال کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
30146
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

جیز کیش اکاؤنٹ پر لوڈ کرنے پر ملنے والے فری منٹس استعمال کرنے کا حکم

جیز کیش اکاؤنٹ میں سو (100) کے لوڈ پر فری منٹس کا کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سو روپے لوڈ کرنے کا مطلب اگر یہ ہو کہ اکاؤنٹ میں جمع ہو کر وہ 100 روپے سائل کے لئے پڑے رہتے ہیں ،جس کو وہ بعد میں کسی وقت کیش بھی کر سکے، تو ایسی صورت میں چونکہ سو روپے لوڈ کرنے والے کا کمپنی کے ذمہ قرض ہوتا ہے، اور قرض پر کسی بھی قسم کے منافع کا حصول ناجائز اور حرام ہے ،لہذا اس قسم کے فری منٹس کے حصول اور استعمال سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: و في الخلاصة القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليو في دينه. و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166)۔
و في حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة و في الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به (إلی قوله) ثم رأيت في جواهر الفتاوى إذا كان مشروطا صار قرضا فيه منفعة وهو ربا وإلا فلا بأس به اهـ (5/ 166)۔
و في شرح المجلة: وجزم في رد المختار بما في جواهر الفتاوى من انه ان كان مشروطاً ، صار قرضا فيه منفعة، وهو ربا و إلا يكن مشروطاً ، فلا بأس به كما ذكروا نظيره فيما لو احدى المستقرض للمقرض، إن كان بشرط نحوه وإلا فلا اھ (۳/ ۱۹۶) ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ولی اللہ فضل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 30146کی تصدیق کریں
0     644
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات