میں اپنے ملک میں ایک طوائف سے نکاح متعہ کرنا چاہتا ہوں، یہ بات میرے علم میں ہے کہ سنی مسلمان کے ہاں یہ حرام ہے، مگر میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں اس کا ارتکاب کرتا ہوں تو کیا مجھ پر اس کی حد جاری ہو گی یا اس کی مجھے آخرت میں یا قبر میں سزا ملے گی ؟
متعہ اگر چہ حرام و ناجائز اور زنا کے زمرے میں آتا ہے لیکن اس کے ارتکاب پر حد جاری نہیں ہوتی، البتہ تعزیر ہوگی اور اس کا مرتکب سخت گناہگار ہے اور قبر و آخرت میں اس کا مواخذہ بھی ہوگا۔
کما في سنن أبي داود: عن الزهري، عن ربيع بن سبرة، عن أبيه، أن النبي ﷺ «حرم متعة النساء» ۔الحدیث (2/ 227)
وفی الهندية: أو تزوجها متعة لا يجب الحد في هذه الوجوه وإن قال: علمت أنها علي حرام كذا في فتاوى قاضي خان۔اھ (2/148)
وفي فتاوى قاضيخان: أو تزوجها متعة۔۔۔لا يجب الحد عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى في هذه الوجوه كلها وإن قال علمت أنها على حرام اھ (3/289)۔