اگر کسی شادی شدہ عورت کے ساتھ کسنگ اور ہاتھ وغیرہ پھیرا ہو تو یہ بھی زنا کے زمرے میں آجائے گا؟ اور اگر اس عورت کو طلاق ہو جاتی ہے کسی اور وجہ سے تو کیا اس کے ساتھ نکاح کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ اس عورت کے ساتھ نکاح کرنا حلال ہوگا یا حرام ؟ اگر کسی عورت کا شوہر بغیر ضرورت ہر وقت لڑکی سے اور اس کے گھر والوں سے لڑتا رہتا ہو نیز لڑکی کا ایک ساتھ گزارہ کرنا مشکل ہو تو کیا اس صورت میں لڑ کی طلاق لے سکتی ہے اپنے شوہر سے ؟
سوال میں مذکور شخص کا فعل اگر چہ شرعی و عرفی زنا کے زمرے میں نہیں آتا اور نہ ہی زنا کے احکامات ان پر جاری ہوتے ہیں ،مگر مذکور مرد و عورت اس عمل کے ارتکاب کی وجہ سے سخت گناہ گار ہوئے ہیں ان پر لازم ہے کہ سچے دل سے توبہ و استغفار کریں اور آئندہ اس طرح برے فعل سے بالکل احتراز کریں ، تاہم مذکور عورت کو اگر طلاق دی جائے تو ایام عدت گزرنے کے بعد مذکور شخص کا اس عورت سے نکاح کرنا شرعاً درست ہے ، جبکہ شوہر اگر کسی عورت کے نان نفقہ اور دیگر حقوقِ نکاح واجبہ پر قادر ہو تو بیوی کو آپس کی معمولی ناچاقیوں کی وجہ سے طلاق یا خلع لینے کی کوشش کرنا جائز نہیں اور ایسی عورت کے بارے میں احادیث مبارکہ میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں اس لئے مذکور عورت کو اپنے مذکور طرز عمل سے ا حتر از لازم ہے۔
كما فى مشكاة المصابيح: عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة» . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي اھ (2/ 978)
و في الفتاوى الهندية: وأما النظر إلى الأجنبيات فنقول يجوز النظر إلى مواضع الزينة الظاهرة منهن وذلك الوجه والكف في ظاهر الرواية كذا في الذخيرة وإن غلب على ظنه أنه يشتهي فهو حرام كذا في الينابيع اھ (5/ 329)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: وصح نكاح حبلى من زنى) أي عندهما. وقال أبو يوسف لا يصح والفتوى على قولهما اھ (3/ 48)
و في المحيط البرهاني في الفقه النعماني: وقال أبو حنيفة ومحمد رحمهما الله: يجوز أن يتزوج امرأة حاملاً من الزنا، ولا يطأها حتى تضع، وقال أبو يوسف وزفر رحمهما الله: لا يصح النكاح، والفتوى على قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله اھ (3/ 79)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: ولذا لو زنت امرأة رجل لم تحرم عليه وجاز له وطؤها عقب الزنا اھ (3/ 103) والله أعلم بالصواب