سائل ایک ایف ایم ریڈیو سٹیشن کا منیجر ہے، جس میں مختلف پروگرام مثلا ًمذہبی پروگرام ، جس میں مفتی عبداللہ شاہ کا ریکارڈ درس قرآن و تفسیر ، قرآن پاک کا پشتو اور اردو لفظی ترجمہ ، اس کے علاوہ علاقے کے علماءِ کرام بھی اس میں آکر قرآن و حدیث کے روشنی میں فقہی مسائل بیان کرتے ہیں ، اس کے علاوہ مختلف اوقات میں سیاسی ، سماجی اور معاشرے کے اصلاح کے پروگرام بھی ہوتے ہیں؟ جبکہ بعض پروگرام ایسے بھی ہیں، جن میں گانے ہوتے ہیں ؟ اور اس ریڈیو کے انکم کا ذریعہ اشتہارات ہیں، جن میں مختلف پراڈکس کی اور اداروں کی تشہیر کی جاتی ہے, ریڈیو کے پالیسی کے مطابق جو بھی اشتہار عوام کے لئے نقصان دہ ہو ، وہ نہیں چلا یا جا تا ؟ کیا یہ منافع حلال ہے ؟ یا یہ کہ اس میں گانے چلتے ہیں ، تو اس وجہ سے یہ منافع حرام ہے؟ جبکہ اشتہار دینے والے عام پروگراموں کے لئے اشتہار دیتے ہیں ، گانوں کی غرض یا وجہ سے اشتہار نہیں دیتے ، رہنمائی فرما کر مشکور فرمادیں؟
واضح ہو کہ مذکور ریڈیو اسٹیشن کے اکثر پرو گرام درس قرآن اور مختلف اداروں کے جائز اشتہارات پر مشتمل ہوں اور آمدنی کا ذریعہ یہی اشتہارات ہوں، تو اس کی آمدنی اور منافع شرعاًحلال ہیں ، مگر ریڈیو پر گانے نشر کر کے لوگوں کو سنانا سخت گناہ ہے، اور اس بارے احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے ، اور اس سے حاصل شدہ آمدنی بھی حرام اور نا جائز ہوگی۔
کمافي الهداية شرح البداية: ولا يجوز الاستئجار على الغناء والنوح وكذا سائر الملاهي لأنه استئجار على المعصية والمعصية لا تستحق بالعقد اھ (3/ 240)۔
وفيها أیضاً: الهداية شرح البداية: الأجرة لا تجب بالعقد وتستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتجيل من غير شرط أو باستيفاء المعقود عليه اھ (3/ 232) -