اس بات سے کوئی شبہ نہیں کہ اولاد کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، لیکن کوشش اور دعا ہمارا فرض ہے، میرے شوہر نے اپنی صحت سے لا علم رکھا، جس کے لئے کافی دوائی کھاتے ہیں، کمزوری کے تحت ان کو مباشرت کے بعد بھی درد کی دوا کھانی پڑتی ہے، اور اس وجہ سے رشتے میں تاخیر کرتے ہیں، اپنی کمزوری سے شوہر شادی سے پہلے سے واقف تھے ، بیوی اگر اولاد کی کوشش کے لئے کہے تو اسے ٹال دیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ کوئی فائدہ نہیں جب خراب ہے رپورٹ ، اگر شوہر اپنا علاج کرانے میں مسلسل تاخیر کرے، جبکہ ڈاکٹر علاج کی امید دلائے، اور شوہر جھوٹے بہانے بنا ئے کہ وقت نہیں ملتا، دو سال سے یہ ہوتا آرہا ہے، شوہر ڈاکٹر کو بھی اپنی تکلیف نہیں بتاتے کہ کیا مسئلہ ہےاُن کو، تو کیا بیوی کا اولاد کی کوشش کا مطالبہ غلط ہوا؟ اگر شوہر پھر بھی کوتاہی کرے تو کیا بیوی کو الگ ہونے کا حق ہے؟ شوہر صرف جمعہ کی ایک نماز پڑھتے ہیں، اور باقی نماز سستی کرکے ٹال دیتے ہیں، اس صورت میں بیوی کیا کرے ؟ الگ ہونا کیا شرعی طور پر جائز ہو گا ؟
سائلہ کا بیان اگر درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر میں واقعۃً مردانگی کمزوری ہو تو اس کو چاہئے کہ اپنا علاج کروائے، اس معاملے میں وہ سستی و کوتاہی نہ کرے، اگر شوہر کا علاج ہو جاتا ہے تو سائلہ کو اعتراض بھی نہ ہوگا، لیکن اگر علاج نہ ہو سکے اور سائلہ کو عفت سے زندگی گزارنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں وہ شوہر سے طلاق یا خلع لے کر اس کے نکاح کے بندھن سے آزاد بھی ہو سکتی ہے ۔
کما في البحر الرائق: وصفته فرض و واجب وسنة وحرام و مکروه (إلى قوله) والمراد بها حالة القدرة على الوطء والمهر والنفقة مع عدم الخوف من الزنا والجور وترك الفرائض والسنن فلو لم يقدر على واحد من الثلاثة أو خاف واحدا من الثلاثة فليس معتدلا فلا يكون سنة في حقه كما أفاده في البدائع۔اھ (3/79)