گناہ و ناجائز

موبائل اکاؤنٹ میں رکھے ہوئے پیسوں پر فری ملنے والے منٹس ,ایس ایم ایس استعمال کرنے کاحکم

فتوی نمبر :
25745
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

موبائل اکاؤنٹ میں رکھے ہوئے پیسوں پر فری ملنے والے منٹس ,ایس ایم ایس استعمال کرنے کاحکم

السلام علیکم!
سلام کے بعد عرض ہے کہ ابھی ٹیلی نار نے ایک پیکج دیا ہے, وہ موبائیل نمبر پر فری اکاونٹ اوپن کرتے ہیں اور جب آپ کے پاس اپنے موبائل اکاونٹ نمبر میں 2000 ہزار روپے یا اس سے زیادہ پیسے ہوں تو وہ آپ کو 60 فری منٹس اور 60 فری ایس ایم ایس دیتے ہیں ،اور اگر نہ ہوں تو یہ نہیں دیتے، تو اب یہ فری منٹس اور یہ ایس ایم ایس کا استعمال کرنا سود میں آتا ہے یا نہیں ؟ اور یہ ایس ایم ایس آتا ہے کہ آپ کو خوشحال بیمہ کی طرف سے فری مینٹس مبارک ہوں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ موبائل اکاؤنٹ میں رکھے ہوئے پیسوں کی حیثیت قرض کی ہے، اس رقم پر دیے جانے والے فری منٹس ، Sms وغیرہ قرض پر نفع ہونے کی بناء پر سود ہے، جو کہ ناجائز اور حرام ہے، اس کے لینے سے احتراز لازم ہے،نیز مذکورہ کمپنی میڈیکل کی سہولت بھی دیتی ہے یہ اسکیم بھی غرر اور قمار پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفي حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر اھ (5/ 166)۔
وفي أحكام القرآن للجصاص: القمار كله من الميسر (إلی قوله) وحقيقته تمليك المال على المخاطرة وهو أصل في بطلان عقود التمليكات الواقعة على الأخطار اھ (4/ 127) -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدزاہدفرید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 25745کی تصدیق کریں
0     415
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات