میں جب تقریباً 18 یا 20 سال کا ہوگیا تو میں جوانی میں غلطی کربیٹھا،جس کا افسوس ہے،غلطی یہ تھی کہ میں نے ایک عورت کو کئی بار غسل کرتے ہوئے برہنہ حالت میں دیکھا ہے،مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے،کیا اب میں اس عورت کی بیٹی سے شادی کرسکتا ہوں؟
سائل نے اگر مذکور عورت کا صرف ظاہری جسم دور سے دیکھا ہو،فرج داخل کو نہ دیکھا ہو تو اس سے اگرچہ سائل بہت سخت گناہ گار ہوا ہے،مگر اس کی وجہ سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوئی،لہذا سائل مذکور عورت کی بیٹی سے شادی کرنا چاہے تو کرسکتا ہے،تاہم سائل کو اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ کرنا اور آئندہ اس طرح کے گناہ سے مکمل اجتناب کرنا بھی لازم ہے۔
کما فی الفتاوی الھندیة: ولا تثبت بالنظر إلى سائر الأعضاء إلا بشهوة ولا بمس سائر الأعضاء لا عن شهوة بلا خلاف، كذا في البدائع والمعتبر النظر إلى الفرج الداخل هكذا في الهداية وعليه الفتوى هكذا في الظهيرية وجواهر الأخلاطي اھ(1/274)۔