السلام علیکم ! جیسا کے آج کل سب کو معلوم ہے کہ انٹرنیٹ پر بالخصوص Facebook , YouTube پر حضور اکرم ﷺ کی شان اقدس کو آئے دن تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور Facebook, YouTube کے ذمہ داران اس مواد کو حذف کرنے سے انکار کر رہے ہیں، اس صورت حال میں کیا فرمائیں گے علماءِ دین و مفتیانِ کرام کہ مسلمانوں کا کیا فرض بنتا ہے ؟ آیا ان کا استعمال سرے سے ختم ہی کر دیا جائے ،یا پھر استعمال ختم نہ کیا جائے، بلکہ صرف ان اوراق کو نہ دیکھا جائے، جس میں حضورﷺ کی شان اقدس میں توہین یا کسرِ شان شامل ہو ، واضح رہے کہ Google نامی ادارہ جو ان دونوںYouTube ، Book Face کی سر پرستی کرتا ہے، اس نے ان اوراق کو حذف کرنے سے انکار کر دیا ہے ،اور کثیر مالی خسارے کا بہانا بنایا ہے، برائے مہربانی شریعت اور تقوی کی رو سے جواب عنایت فرماکر راہنمائی فرائیں۔ فقط خاکپائے علمائے حق۔
مذکور ویب سائٹ کا استعمال بھی دیگر ویب سائٹس کی طرح جائز امور میں جائز ہے، تاہم جب اس میں آپ ﷺ کی توہین پر مشتمل مواد موجود ہے، اور اس کی طرف متوجہ کرنے کے باوجود بھی مالکان اس مواد کو حذف کرنے کیلئے تیار نہیں، تو غیرت ایمانی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو استعمال ہی نہ کیا جائے تاکہ مالکان اس ناپاک مواد کو ختم کرنے پر مجبور ہوں۔
ففي صحيح مسلم: فقال أبو سعيد أما هذا فقد قضى ما عليه سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان اھ (1/ 69)
وفي مرقاة المفاتيح: وقيل: المعنى إنكار المعصية بالقلب أضعف مراتب الإيمان، لأنه إذا رأى منكرا معلوما من الدين بالضرورة فلم ينكره ولم يكرهه، ورضي به واستحسنه كان كافرا اھ (8/ 3208)-