گناہ و ناجائز

کتے کو گھر میں رکھا جا سکتا ہے یا نہیں ؟

فتوی نمبر :
23795
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کتے کو گھر میں رکھا جا سکتا ہے یا نہیں ؟

کیا کتے کو گھر میں رکھا جا سکتا ہے یا نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

گھر کی حفاظت یا کسی اور غرض صحیح کے لیے کتے کا رکھنا جائز اور درست ہے، ورنہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففى مشكاة المصابيح؛ وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من اتخذ كلبا إلا كلب ماشية أو صيد أو زرع انتقص من أجره كل يوم قيراط» (2/ 1197)
و في حاشية ابن عابدين: (قوله لا ينبغي اتخاذ كلب إلخ) الأحسن عبارة الفتح، وأما اقتناؤه للصيد وحراسة الماشية والبيوت والزرع، فيجوز بالإجماع لكن لا ينبغي أن يتخذه في داره إلا إن خاف لصوصا أو أعداء للحديث الخ(5/ 227)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 23795کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات