السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ عام سگریٹ ، الیکٹرونک سگریٹ، شیشہ، عربی تمباکو کے بارے میں شریعت کا حکم ایک ہی ہے، یا ان میں کوئی فرق ہے؟
تمباکو نوشی کی تمام صورتیں اگر چہ ایک مباح عمل ہے، مگر اس کی وجہ سے منہ میں رائحہ کریہہ پیدا ہوتا ہے، اس لیے اس سے احتراز چاہیے، تاہم اگر اس میں کوئی نشہ آور چیز شامل کردی جائے تو اس صورت میں اس کا استعمال بھی حرام ہوجاتا ہے۔
کما فی سنن الترمذی: عن ابن عمر قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: كل مسكر حرام. (3/355 رقم الحدیث 1864 )۔
وفی الدرالمختار: (ويحرم أكل البنج والحشيشة) هي ورق القتب (والأفيون) لأنه مفسد للعقل ويصد عن ذكر الله وعن الصلاة الخ (6/ 457)۔
و فی ردالمحتار: تحت (الصلح بين الإخوان في إباحة شرب الدخان) (الی قولہ) فالذي ينبغي للإنسان إذا سئل عنه سواء كان ممن يتعاطاه أو لا كهذا العبد الضعيف وجميع من في بيته أن يقول هو مباح، لكن رائحته تستكرهها الطباع؛ فهو مكروه طبعا لا شرعا الخ (6/459)۔