دبئی کی کچھ مسجدوں میں کمپیوٹر سے اذان ہوتی ہے تو کیا اس طرح شرعاً اذان ہو جاتی ہے؟
اذان کے شرعاً درست ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ کسی عاقل اور فاعلِ مختار مرد سے صادر ہو، جبکہ کمپیوٹر ذوی العقول میں سے نہیں، اس لیے مذکور طریقہ اذان شریعت کے مطابق نہیں ہے، اس طریقہ کو ترک کر کے باضابطہ کسی شخص سے ہر نماز کے لیے دلوائی جائے، تاکہ اذان کی سنت بھی ادا ہو جائے۔
ففی بدائع الصنائع: (منها) - أن يكون رجلا، (إلی قوله) وأما أذان الصبي الذي لا يعقل فلا يجزئ ويعاد؛ لأن ما يصدر لا عن عقل لا يعتد به كصوت الطيور. (ومنها) : أن يكون عاقلا اھ (1/ 150)