گناہ و ناجائز

داڑھی کے اوپر زائد بال ،زیر ناف اور ران کے بال کاٹنے کا حکم

فتوی نمبر :
23208
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

داڑھی کے اوپر زائد بال ،زیر ناف اور ران کے بال کاٹنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مجھے اللہ پاک نے توفیق دی ہے اور میں نے داڑھی رکھ لی ہے ، مجھے آپ سے عرض یہ کرنا ہے کہ جب میری داڑھی چھوٹی تھی، تو میں خط بناتا تھا، اور اب جب کہ الحمد اللہ داڑھی پھر آگئی ہے ، تو میں اب بھی خط بناتا ہوں، تو کیا میں چہرے کے گال اور گردن پر گول ہڈی کے اوپر سے بال صاف کرسکتا ہوں؟ کیا یہ عمل بھی سنت ہے؟ کہیں ایسانہ ہو کہ میں مغالطہ میں داڑھی کے بال کاٹ رہا ہوں؟ کیا زیر ناف باک کاٹنا ہر ہفتے سنت ہے؟ اور کیا ران کے بال بھی صاف کئے جاسکتے ہیں ؟ رہنمائی فرمادیں جزاک اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

چہرے کے بال اور گردن کے بال صاف کرانا جائز ہے ، اس میں کوئی قباحت نہیں ، جبکہ زیر ناف بالوں کو ہر ہفتے پندرہ دن میں صاف کرنا بھی مستحب، زیر ناف بالوں کے صاف کرنے میں رانیں داخل نہیں ، اگر کوئی کرے تو ممانعت بھی نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الفتاوی الھندیة: ولا يحلق شعر حلقه وعن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - لا بأس بذلك ولا بأس بأخذ الحاجبين وشعر وجهه ما لم يتشبه بالمخنث كذا في الينابيع. الخ (5/358)۔
وفی الدرالمختار: (و) يستحب (حلق عانته وتنظيف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع مرة) والأفضل يوم الجمعة وجاز في كل خمسة عشرة وكره تركه وراء الأربعين الخ (6/406)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: وأما حلق شعر الصدر والظہر ففیہ ترک الأدب کذا فی القنیة الخ (8/209)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ناصر سینا محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 23208کی تصدیق کریں
0     4
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات