گناہ و ناجائز

کیا لڑکے کے ساتھ بد کاری کی معافی ہے؟

فتوی نمبر :
22930
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کیا لڑکے کے ساتھ بد کاری کی معافی ہے؟

حضرت اگر کسی لڑکے کا کسی لڑکے سے بدکاری ہوجائے، تو اللہ سے اس کی معافی ہے؟ اگر ہے تو کس طرح کیا معافی مانگنے کے بعد بھی قیامت والے دن سزا ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں مذکور دونوں افراد پر لازم ہے کہ بصدق دل تو بہ و استغفار کریں، اور آئندہ اس فعل قبیح سے مکمل اجتناب کریں امید ہے کہ بصدق دل تو بہ کرلینے سے قیامت کی سزا سے محفوظ رہیں گے ۔

مأخَذُ الفَتوی

قال الله تعالى : {وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا } [النساء: 110]
و في مشكاة المصابيح: عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «التائب من الذنب كمن لا ذنب له» . رواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان اھ (2/ 730) والله أعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 22930کی تصدیق کریں
0     15
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات