کیا اسلام میں چیٹنگ جائز ہے، یہ تو معلوم ہے کہ نامحرم سے نرمی سے بات کرنا بھی جائز نہیں ہے ،لیکن چیٹنگ میں اگلے بندے نظر تو نہیں آتے، اور نہ ہی آواز کا پتہ چلتا ہے، اس لئے یہ سوال ذہن میں آیا ۔
واضح ہو کہ چیٹنگ یعنی دھوکہ بازی ایسا عمل ہے ،جس کی ذات میں قبح پایا جاتا ہے، اور اس کے ناجائز ہونے کے لئے کسی دوست کی ذات کو دیکھنا یا اُسے مخاطب کرنا وغیرہ شرعاً لازم اور شرط بھی نہیں، جبکہ کسی غیر محرم کے ساتھ مذکور عمل کی شناعت مزید بڑھ جاتی ہے،یعنی ایک چیٹنگ کا ناجائز و حرام ہونا اور دوسرے غیر محرم کے ساتھ بلا ضرورتِ شرعیہ بات کرنا اور تعلقات قائم کرنا وغیرہ ،اس لئے سائل پر لازم ہے کہ اپنے مذکور نا جائز طرزِ عمل سے احتراز کرے ۔
وفي مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «المؤمن غر كريم والفاجر خب لئيم» . رواه أحمد والترمذي وأبو داود (3/ 1409)
و في مشكاة المصابيح: علي بن الحسين رضي الله عنهما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه» . رواه مالك وأحمد (3/ 1361)۔