گناہ و ناجائز

مشت زنی کا حکم اور بیوی کے ہاتھ سے شوہر اور شوہر کے ہاتھ سے بیوی مشت زنی کروانے کا حکم

فتوی نمبر :
2202
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مشت زنی کا حکم اور بیوی کے ہاتھ سے شوہر اور شوہر کے ہاتھ سے بیوی مشت زنی کروانے کا حکم

محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم! کیا مشت زنی اسلام میں جائز ہے؟
بیوی کے ہاتھ سے شوہر اور شوہر کے ہاتھ سے بیوی مشت زنی کروائے تو آیا یہ شرعاً جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مشت زنی شرعاً ناجائز ہے اور احادیث مبارکہ میں اس فعل قبیح کے ارتکاب کرنے والے کے بارے میں ملعون تک کے الفاظ ارشاد فرمائے گئے ہیں، البتہ میاں بیوی کے ہاتھ سے اس استمتاع کے لینے کی گنجائش ہے، اگرچہ احتراز اس سے بھی بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی حاشية الطحطاوی: أی فیحرم لما رویٰ عنہ صلی اللہ علیه وسلم ’’ناکح الید ملعون‘‘ وقال جریج سألت عن عطاء فقال مکروہ سمعت قوماً یحشرون وأیدهم حبالیٰ فأظنهم هٰولاء وقال سعید بن جبیر عذب اللہ أمة کانوا یبعثون بمذاکیرهم، ورد سبعة لا ینظر اللہ إلیهم منهم الناکح یدہ اھ (ص:۵۲)
وفی الدر المختار: وكذا الاستمناء بالكف وإن كره تحريما لحديث «ناكح اليد ملعون»(2/ 399)
وفی حاشية ابن عابدين: ويجوز أن يستمني بيد زوجته وخادمته اهـ (إلی قوله) لأن فعله بيد زوجته ونحوها فيه سفح الماء لكن بالاستمتاع بجزء مباح اھ (2/ 399) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ایوب منیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 2202کی تصدیق کریں
| | | |
0     5075
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات