گناہ و ناجائز

پراویڈنٹ فنڈ کی دونوں اقسام سے ملنے والی رقم کے استعمال سے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟

فتوی نمبر :
21978
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

پراویڈنٹ فنڈ کی دونوں اقسام سے ملنے والی رقم کے استعمال سے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟

میں جس کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں، وہاں جی پی فنڈ کی سہولت دی جاتی ہے ، اس کی شرائط مندرجہ ذیل ہیں: ملازم اپنی تنخواہ سے جتنا حصہ اس فنڈ کے لیے مختص کرےگا، اتنی ہی مقدار اس فنڈ میں کمپنی اپنی طرف سے شامل کرےگی، یعنی کہ اگر ملازم اپنی تنخواہ سے ڈیش روپے ماہانہ شامل کرے گا تو کمپنی بھی ڈیش روپے اس میں ماہانہ شامل کرے گی، ملازم اس فنڈ میں اپنی تنخوا دے کم از کم فیصد اور زیاد دے زیادہ فیصد شامل کر سکتا ہے ؟ اگر ملازم اس فنڈ میں شمولیت نہ چاہے تو اس کو مجبور نہیں کیا جاتا، البتہ اگر کوئی ملازم اس فنڈ میں حصہ نہ ڈالے تو اس کو اپنی ہی طرف سے اس مد میں (ماہانہ یا سالانہ )کچھ نہیں دیا جائے گا؟ سال کےاختتام پر مجموعی جمع شدہ رقم پر ’’انٹرسٹ‘‘ کے نام سے مزیدر قم شامل کر دی جاتی ہے ؟ (۱) کیا ان شرائط کے ساتھ اس جی پی فنڈ میں حصہ لینا جائز ہے ؟ (۲) اگر ملازم سالانہ جمع شدہ رقم پر ملنے والے ’’انٹرسٹ‘‘ سے دستبراد ہو جائے اور فقط اپنی تنخواہ سے کٹوائی جانے والی رقم اور کمپنی کی طرف سے اسی مقدار میں شامل کیا جانے والا حصہ حاصل کرنا چاہے تو کیا یہ جائز ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

پراویڈنٹ فنڈ کی دو قسمیں ہیں (1) جبری (۲) اختیاری جبری پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے پھر مجموعہ کو بینک وغیرہ میں رکھوا کر اس پر جو رقم سالانہ بنام سود حاصل کرتا ہے ، اور اس رکھوانے میں ملازم کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا، شرعا ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں در حقیقت تنخواہ ہی کا ایک حصہ ہیں اگرچہ سود یا کسی اور نام سے دی جائیں، لہذا ملازم کوان کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے، جبکہ پراویڈنٹ فنڈ کی دوسری قسم اختیاری ہے جس میں ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے رقم کٹواتا ہے اس میں پہلی دو رقمیں تو درست ہیں، البتہ اس میں تیسری رقم جو محکمہ بنام سود دےگا، اس میں تشبہ بالربا ہے، اس لیے اس کا لینا اور اس کو استعمال میں لانا جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے اور ایسی رقم کسی مستحق زکوۃ کو بطور معاونت دی جائے تو اس میں شرعا حرج نہیں۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
لعل محمد ولی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 21978کی تصدیق کریں
0     13
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات