ایک عورت کو شہوت کے ساتھ چھونے سے کون کون سے رشتے حرام ہو جاتے ہیں؟ اس کی ماں ، نانی، بیٹی ، نواسی ، یا مزید کچھ رشتے بھی حرام ہو جاتے ہیں؟ جیسا کہ یہاں پر حرام حلال سیکشن میں ایک فتوی ہے کہ عورت کے بھائی کی بیٹی بھی حرام ہو جاتی ہے، مہربانی رشتہ داروں کی وہ لسٹ بھی دیں جو حرام ہو جاتے ہیں، کیا بیوی کی خالہ یا پھوپھی کو شہوت کے ساتھ چھونا بھی حرمت مصاہرت کے زمرے میں آتا ہے ؟
واضح ہو کہ عورت کو بلاحائل شہوت کے ساتھ چھونے سے چھونے والے کے اصول باپ داد اوغیرہ اور فروغ بیٹا، پوتا، نواسا وغیرہ عورت پر اور عورت کے اصول ماں ، نانی ، دادی وغیرہ اور فروع جیسے بیٹی ، پوتی، نواسی وغیرہ چھونے والے پر ہمیشہ کیلئے حرام ہو جاتے ہیں، اس کے علاوہ رشتے حرام نہیں ہوتے، جبکہ اس کے بارے میں مذکور سیکشن میں درج فتوی درست نہ ہونے کی وجہ سے ہٹا دیا گیا ہے ۔
ففي الدر المختار: (و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنا في الوطء الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة (أصل مزنيته) أراد بالزنا في الوطء الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة (وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن) مطلقا اھ (3/ 32)