گناہ و ناجائز

مشت زنی اورل سیکس کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
21327
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مشت زنی اورل سیکس کرنے کا حکم

السلام علیکم
مفتی صاحب میں 27 سال کا ہوں، لیکن بے روزگار ہوں اس لیے میں شادی نہیں کر سکتا ،میں بہت پریشان ہوں ،لیکن میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ زنا نہ کروں ، اگر میں نے کسی عورت سے اورل سیکس یا کوئی دوسری حرکت کی ہے تو کیا یہ زنا ہے؟ دوسرا یہ کہ مشت زنی کی کیا سزا ہے؟ کیا اس کی اجازت ہے اگر کسی شخص کو زنا کا خوف ہو ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو چاہیئے کہ جب تک شادی کا انتظام نہیں ہوتا ،اس وقت تک شہوت کو بڑھانے والی غذاؤں سے اجتناب کرے ساتھ ساتھ وقتا فوقتا روزہ بھی رکھے اور برے ماحول، بری صحبت سے بچے، جبکہ کسی عورت کے ساتھ اورل سیکس وغیرہ کرنا اگرچہ زنا نہ ہو ،لیکن دواعی زنا اور شرعاً ناجائز و حرام ضرور ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
اسی طرح مشت زنی بھی حرام ہے، قرآن وحدیث میں اس بارے میں سخت وعیدیں بیان ہوئی ہیں اور اس عمل کے مرتکب شخص کو ملعون تک قرار دیا گیا ہے، اس لئے اس سے ہر ممکن احتراز لازم ہے ،لیکن اگر کسی خاص موقع پر زنا میں مبتلا ہونے کا واقعی شدید خطرہ ہو اور اس سے بچنے کا اس فعل شنیع کے علاوہ کوئی چارہ کار بھی نہ ہو تو شاید اللہ تعالیٰ معاف فرما دیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي مشكاة المصابيح: عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج ومن لم يستطع فعليه بالصوم فإنه له وجاء» متفق عليه اھ (2/ 927)
و في الدر المختار: وكذا الاستمناء بالكف وإن كره تحريما لحديث «ناكح اليد ملعون» ولو خاف الزنى يرجى أن لا وبال عليه. (2/ 399)
و في الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله: ولو خاف الزنى إلخ) (إلی قوله) و في السراج إن أراد بذلك تسكين الشهوة المفرطة الشاغلة للقلب وكان عزبا لا زوجة له ولا أمة أو كان إلا أنه لا يقدر على الوصول إليها لعذر قال أبو الليث أرجو أن لا وبال عليه وأما إذا فعله لاستجلاب الشهوة فهو آثم اهـ. (2/ 399)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسد اللہ قدیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 21327کی تصدیق کریں
0     18
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات