محترم جناب مفتی صاحب، ایک دینی تعلیم یافتہ سند یافتہ کئی ساری لڑکیوں کی آبرو ریزی کرے تو آیا اس کے لئے توبہ کی کوئی صورت اسلام میں ہے، اور اس شخص کی بیوی کو کیا کرنا چاہئیے ، اس کے ساتھ کس طرح برتاؤ کرنا چاہئیے۔
مذکور شخص اپنے اس طرزِ عمل اور قبیح حرکات کی وجہ سے بہت سخت گناہ گار ہوا ہے، اس پر لازم ہے کہ بصدقِ دل تو بہ و استغفار کرے اور آئندہ اس قبیح حرکت سے باز آجائے اور اس صورت میں بیوی کو بھی چاہئیے کہ ایسا طرز اختیار نہ کرے جس کی وجہ سے وہ دوبارہ گناہ والی زندگی کی طرف راغب ہو، تاہم اگر وہ اس کے باوجود اپنی اس نا جائز و حرام حرکت سے باز نہ آئے تو ایسے شخص سے قطعِ تعلق اور اس کے خلاف قانون چارہ جوئی بھی کی جا سکتی ہے۔
وفي القرآن الكريم : {وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا } [الإسراء: 32]
وفي سنن ابن ماجه: عن أبي عبيدة بن عبد الله، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «التائب من الذنب، كمن لا ذنب له» اھ (2/ 1419)-
و في صحيح البخاري: فإن العبد إذا اعترف ثم تاب، تاب الله عليه» (5/ 119)-
و في سنن ابن ماجه: عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كل بني آدم خطاء، وخير الخطائين التوابون» اھ (2/ 1420)-
و في تفسير الألوسي = روح المعاني: التوبة ما استجمعت ثلاثة أمور: أن يقلع عن المعصية وأن يندم على فعلها وأن يعزم عزما جازما على أن لا يعود إلى مثلها أبدا اھ (14/ 353)-
و في تفسير القرطبي: (ضاقت عليهم الأرض بما رحبت) أي بما اتسعت يقال: منزل رحب ورحيب ورحاب. و" ما" مصدرية، أي ضاقت عليهم الأرض برحبها، لأنهم كانوا مهجورين لا يعاملون ولا يكلمون. و في هذا دليل على هجران أهل المعاصي حتى يتوبوا. اھ (8/ 287)-