میری سالی صاحبہ جو ایک انتہائی مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتی ہے، اور صوم و صلوٰۃ کی پابند ہے، اولاد نہ ہونے کی وجہ سے اس کے شوہر نے اسے گھر بٹھاکر طلاق کے کاغذات بذریعہ ڈاک بھجودئے ہیں، میری سالی صاحبہ ایک سرکاری اسکول میں ملازمہ ہے، عدت کیسے گزارے ؟ کیا وہ سروس (کام) جاری رکھے یا اسلامی شریعہ کے مطابق کے گھر میں رہ کر عدت پوری کرے یا اس کیلئے کوئی اور احکامات ہیں؟ پلیز قرآن و سنت کی روشنی میں بیان فرمائیں۔
دوران عدت مذکور عورت کا نان و نفقہ اس کے شوہر کے ذمہ واجب ہے لہذا اس کیلئے عدت کے دوران معاش کیلئے گھر سے نکلنا درست نہیں، اس پر لازم ہے کہ دوران عدت کی رخصت لے کر عدت پوری کرے۔
کمافی الدر المختار:(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو ينهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه اھ (3/536)۔واللہ اعلم بالصواب
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0