میری لے پالک بیٹی( میری بھانجی) کو ابھی حال ہی طلاق ہو گئی ۔ میری معلومات کے مطابق اس کی عدت تین حیض ہے , اب سوال یہ ہے کہ اس کے حقیقی بھائی کی شادی 27 اکتوبر کو ہے۔ جبکہ اسکا آخری حیض اکتوبر کے آخری ہفتے میں متوقع ہے۔ کیا وہ اپنے بھائی کی شادی میں شرکت کیلئے لاہور جا سکتی ہے ؟ فی الحال وہ ہمارے ساتھ اسلام آباد میں مقیم ہے , میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ جس دن اسے طلاق ہوئی اس نے اسی دن حمل کا ٹیسٹ کرایا تھا جو کہ نفی میں تھا جب کہ طلاق کے بعداسکو ایک حیض بھی آچکاہےاس کے والد میری بیوی کے حقیقی بھائی ہیں اور شادی میں شرکت ہمارے لئے ناگزیر ہے اگر ہم اپنی بیٹی کو ساتھ لیکر نہ گئے تو اس کو گھر پہ اکیلے رہنا پڑے گا۔
سائل کی بھانجی کے لئے دورانِ عدت اپنے بھائی کی شادی میں شرکت کیلئے اسلام آبادسے لاہور سفر کرنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
کمافی الھندیة:إن كانت معتدة من نكاح صحيح وهي حرة مطلقة بالغة عاقلة مسلمة، والحالة حالة الاختيار فإنها لا تخرج ليلا ولا نهارا سواء كان الطلاق ثلاثا أو بائنا أو رجعيا كذا في البدائع.اھ(534)-
وفیھا ایضاً : المعتدة لا تسافر لا للحج ولا لغيره ولا يسافر بها زوجها عندنا، وإن سافر بها وهو لا يريد الرجعة لا يصير مراجعا كذا في فتاوى قاضي خان.اھ (1/535)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0