گناہ و ناجائز

ہنڈی کے ذریعہ رقم بھیجنے کا شرعی حکم

فتوی نمبر :
20398
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ہنڈی کے ذریعہ رقم بھیجنے کا شرعی حکم

میں دبئی میں کام کر رہا ہوں، اور ایکسچینج یا بینک کے ذریعہ رقم بھیج رہا ہوں ، صرف والد صاحب کے نام پر نہ کہ ان کے اکاؤنٹ میں، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ہنڈی کے ذریعہ رقم بھیج سکتا ہوں؟ کیا یہ حلال ہے یا حرام ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ہنڈی کے ذریعہ رقم بھیجنا دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے ، ایک یہ کہ مجلسِ قعد میں دونوں فریقوں میں سے کوئی ایک اپنی رقم پر قبضہ کرلے, دوئم یہ کہ اس کا روبار کی قانوناً اجازت ہو ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافي الدر المختار وحاشية ابن عابدين: (باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز) وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز لما مر (5/ 179)۔
و في شرح الاشباه والنظائر : قال المصنف في شرح الكنز ناقلا عن ائمتنا اطاعة الامام في غیر معصیة واجبة اھ (۱/ ۳۳۲)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
زبیر اسماعیل خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 20398کی تصدیق کریں
0     333
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات