السلام علیکم! حضرت آپ سے ۳ باتیں معلوم کرنی ہیں:
۱۔ مسجد کے اندر لاؤڈ اسپیکر ایک ضرورت ہے، لیکن ایکو ساؤنڈ ( گونج یعنی آواز کا تکرار) کی کیا ضرورت ہے، جس کی وجہ سے آواز مکرر ہوتی ہے یعنی الله اکبر ، بَرْ، بَرْ، بَرْ اور سمع الله لمن حمدہ ، دَہْ ، دَہْ، دَہْ، کیا اس طرح امام کی آواز سے مقتدی کی نماز ہو جاتی ہے؟ اور اگر ہو جاتی ہے تو کیا ایک عام نمازی بھی اس طرح انفرادی نماز پڑھ سکتا ہے یعنی الله اکبر ، بَرْ، بَرْ، بَرْ۔
۲۔ مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کرنے سے متعلق کیا حکم ہے؟
۳۔ اگر اذان میں ’’أشهد أن لا اله إلا الله‘‘ کی جگہ ’’أشهد أن لا الله إلا الله‘‘ (یعنی الٰہ کے ہمزہ اور لام کو کھینچنا اور إلا اللہ میں بھی ہمزہ اور لام کو کھینچنا ) اور ’’أشھد أن محمداً رسول اللہ ‘‘کی جگہ ’’أشھد أن محمدا رسول اللہ‘‘ میں (محمد کے میم پر تھوڑا رکنا اور رسول کے واؤ اور اللہ کے لام کو کھینچنا )
نوٹ: جن جگہوں پر دو یا زیادہ الفاظ ہیں ان کا مطلب کہ بہت کھینچا گیا ہے، مزید یہ کہ ان الفاظ کے معانی بھی بتادیں جنہیں بہت زیادہ کھینچا گیا ہے۔ برائے مہربانی اس مسئلے کی صحیح رہنمائی فرمائیں. جزاک اللہ!
۱۔ اگر چہ ایکو ساؤنڈ کو مذکور طریقے سے لگانا نا پسندیدہ ہے، مگر اس صورت میں مقتدی کی نماز درست اداء ہو جائے گی، جبکہ انفرادی طور پر نماز پڑھنے کے دوران ایسا کرنا نامعقول اور لغو حرکت ہے، جس سے نماز فاسد ہونے کا اندیشہ ہے، اس لیے اس سے احتراز لازم ہے۔
۲۔ مسجد کا لاؤڈ اسپیکر اگر حدودِ مسجد سے باہر ہو تو اس میں ہر طرح کا اعلان کرنا جائز ہے، جبکہ حدودِ مسجد کے اندر ہونے کی صورت میں اس کے اندر گمشدہ اشیاء اور غیر ضروری چیزوں کا اعلان کرنا درست نہیں، البتہ جنازہ وغیرہ ضرورتِ عامہ کا اعلان کرنے کی گنجائش ہے۔
۳۔ اذان کے الفاظ کو اس طرح کھیچنا اصولِ تجوید کے منافی ہے، اس میں زیادہ مبالغہ کرنے سے احتراز چاہیے۔
ففی الفتاوى الهندية: (ومنها) تكرار الحرف أو الكلمة إن كرر حرفا واحدا فإن كان ذلك إظهار تضعيف لم تفسد صلاته نحو أن يقرأ ومن يرتد وإن كان زيادة نحو أن يقرأ الحمد لله بثلاث لامات تفسد صلاته وإن كرر الكلمة فإن لم يتغير المعنى لا تفسد صلاته وإن تغير نحو أن يقرأ رب رب العالمين أو مالك مالك يوم الدين فالصحيح أنها تفسد. هكذا في الظهيرية. اھ (1/ 80)
وفی الدر المختار: (وعرف) أي نادى عليها حيث وجدها وفي الجامع اھ (4/ 278)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: وفي المجامع) أي محلات الاجتماع كالأسواق وأبواب المساجد بحر، وكبيوت القهوات في زماننا اھ (4/ 278)
وفی الدر المختار: (ولا لحن فيه) أي تغني بغير كلماته فإنه لا يحل فعله وسماعه اھ(1/ 387)
وفی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله: بغير كلماته) أي بزيادة حركة أو حرف أو مد أو غيرها في الأوائل والأواخر قهستاني. اھ (1/ 387)