کیا فرماتے ہیں علماء کرام کہ کسی کی پیٹھ پیچھے برائی کہنا کیسا ہے ؟ جیسا کہ آج کل لوگ صدر پاکستان زرداری کو گالیاں دیتے ہیں؟
اس میں شبہ نہیں کہ شریعت میں بغیر مصلحت شرعیہ کے کسی کی غیبت اور مسلمانوں کے عیوب اور کوتاہیوں کا اظہار بدترین گناہ اور شدید معصیت ہے اور یہ اگر حاکم وقت کے خلاف ہو تو اور بھی بڑا ہے اور اگر کسی درست شرعی مصلحت کے تحت ہو تو جائز بلکہ کبھی بتقاضا مصلحت واجب بھی ہو جاتی ہے۔
قال فتح الباري لابن حجر: قال العلماء تباح الغيبة في كل غرض صحيح شرعا حيث يتعين طريقا إلى الوصول إليه بها كالتظلم والاستعانة على تغيير المنكر والاستفتاء والمحاكمة والتحذير من الشر اھ (10/ 472) والله اعلم بالصواب