میری والدہ کا یہ کہنا ہے کہ جب اذان دی جائے تو اس وقت جاڑو دینے سے رزق کم ہو جاتا ہے، اس میں کتنی سچائی ہے اور احادیث مبارکہ میں اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
احادیث وغیرہ میں ایسی کوئی تصریح تو نہیں ملی کہ اذان کے دوران جاڑو دینے سے رزق کم ہوتا ہے، البتہ اذان کا توجہ سے سننا اور اس کا جواب دینا مسنون ہے، اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔
ففی مشكاة المصابيح: وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رجل: يا رسول الله إن المؤذنين يفضلوننا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «قل كما يقولون فإذا انتهيت فسل تعط» . رواه أبو داود اھ (1/ 213)