زمانہ طالب علمی میں ،میں نے ایک دوست سے تعلیمی نوٹس لئے تھے،اور کہا تھا " کہ واپس کردوں گا،مگر نہیں کرسکا ، اور دوسرے دوست کی ذاتی لائبریری سے کچھ کتابیں لی تھیں، وہ واپس نہ کر سکا ،دونوں حضرات سے کوئی رابطہ نہیں اور یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ دونوں کہاں ہیں۔ اب میں (USA) میں رہائش پذیر ہوں۔ اس بات کو تقریباً 15 - 20 سال ہو گئے، دل میں یہ ہے کہ میں نے گناہ کیا ہے ۔
براہ کرم راہ نمائی فرمائیں کہ اس کا کیا کفارہ ادا کروں کہ روز محشر پکڑ سے بچ سکوں۔.
سائل کو چاہیے کہ اپنے اس گناہ پر بصدق دل تو بہ واستغفار کرے، اور اگر ان دونوں کو ان سے لی گئی کتابیں اور ٹونس یا ان کی قیمت پہنچانا ممکن نہ تو ان کی طرف سے نوٹس اور کتابوں کی قیمت کے بقدر صدقہ کر دے ،ان شاء اللہ امید ہے کہ آخرت کے مواخذہ سے مامون رہے ۔
كما في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: عن سمرة (عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: " «على اليد ما أخذت» ") أي: يجب على اليد رد ما أخذته. قال الطيبي - رحمه الله -: " ما " موصولة مبتدأ، وعلى اليد خبره والراجع محذوف أي: ما أخذته اليد ضمان على صاحبها اھ (5/ 1975) والله اعلم بالصواب