گناہ و ناجائز

اسٹاک ایکسچینج کے ذریعہ شیئرز کی خرید وفروخت کی شرائط کیا ہیں ؟

فتوی نمبر :
17538
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

اسٹاک ایکسچینج کے ذریعہ شیئرز کی خرید وفروخت کی شرائط کیا ہیں ؟

اسٹاک ایکسچینج کا کاروبار جائز ہے یا نہیں؟ براہ مہربانی تفصیل سے وضاحت کے ساتھ جواب تحریر فرمائیں ۔ جزاك الله خيرا ً!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز کی خرید و فروخت کا کاروبار ہوتا ہے اور شیئرز کی خرید و فروخت خواه اسٹاک ایکسچینج کے ذریعہ سے ہو یا کسی کمپنی اور بنک کے ذریعہ اگر درج ذیل شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے کی جائے تو اس صورت میں بلاشبہ جائز اور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی جائز اور حلال ہے ،وہ شرائط یہ ہیں :
(۱) جس کمپنی کے شیئرز خریدے جار ہے ہیں ، وہ کمپنی کسی حرام کا روبار میں ملوث نہ ہو۔ (2) اس کمپنی کے تمام اثاثے اور املاک سیال اثاثوں (LIQUID ASSESS) یعنی نقد رقم کی شکل میں نہ ہوں، بلکہ کمپنی نے کچھ فکسڈ اثاثے (FIXED ASSESTS) حاصل کر لئے ہوں مثلاً : بلڈ نگ بنالی ہو یا زمین خرید لی ہو وغیرہ ۔
(۳) اگر کمپنی کا بنیادی کا روبار حلال ہو ، لیکن کمپنی سودی لین دین کرتی ہو تو اس صورت میں اس کی سالانہ میٹنگ میں سودی لین دین کے خلاف آواز اٹھائی بھائے۔ (۴) چوتھی شرط جو حقیقت میں تیسری شرط کا ایک حصہ ہے ، وہ یہ ہے کہ جب منافع تقسیم (DIVIDEND) ہو تو وہ شخص انکم اسٹیٹ منٹ کے ذریعے معلوم کرلے کہ آمدنی کا کتنا فیصد حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہے ؟ پھر جتنا حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہے ، اس کو بلانیت ثواب صدقہ کر دے۔
یہ تب ہے جب کہ شیئرز خریدنے کا مقصد کسی کمپنی کا حصہ دار بننا اور گھر بیٹھ کر اس کا سالانہ نفع حاصل کرنا ہو۔
اس کے بعد واضح ہو کہ جو لوگ شیئرز کو مذکور غرض سے نہیں خرید تے، بلکہ ان کا مقصد کیپیٹل گین ( capitalgain) ہوتا ہے یعنی وہ لوگ اس کا اندازہ کرتے ہیں کہ کس کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ کا امکان ہے چنانچہ اس کمپنی کے شیئرز خرید لیتے ہیں اور پھر چند روز بعد جب قیمت بڑھ جاتی ہے تو اس کو فروخت کر کے نفع حاصل کرتے ہیں، مذکورہ شرائط کے ساتھ اس معاملے کی بھی شرعاً گنجائش ہے، لیکن اس کو درست کہنے میں دشواری سٹہ بازی کے وقت پیش آتی ہے جو اسٹاک ایکسچینج کا بہت بڑا اور اہم حصہ ہے، جس میں بسا اوقات شیئرز کا لین دین بالکل مقصود نہیں ہوتا ،بلکہ آخر میں جا کر آپس کا فرق (Dafrence) برابر کر دیا جاتا ہے اور شیئرز پر نہ تو قبضہ ہوتا ہے اور نہ ہی قبضہ پیش نظر ہوتا ہے، لہذا جہاں یہ صورت ہو کہ قبضہ بالکل نہ ہو اور نہ ہی لینا دینا مقصود ہو، بلکہ اصل مقصد سٹہ بازی کرکے ڈیفرنس کو برابر کر لینا ہو تو یہ صورت بالکل حرام ہے اور شریعت میں اس کی اجازت نہیں ہے۔ اسی طرح بعض اوقات شیئرز پر قبضہ اور ڈیلیوری سے پہلے ہی ان کو آگے فروخت کر دیا جاتا ہے اس کی بھی شریعت میں اجازت نہیں ،کیونکہ شیئرز پر قبضہ ضروری ہے۔ اور شیئرز کا قبضہ یہ ہے کہ شیئرز ہولڈر اس کے نفع و نقصان کا حقدار بن جائے جس کو رسک میں آنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی


واللہ تعالی اعلم بالصواب
عطاء الرحمن حنیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 17538کی تصدیق کریں
0     15
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات