السلام علیکم!
جناب مسئلہ یہ ہے کہ آج کل انٹرنیٹ پر کچھ اسلامی فلم موجود ہیں اس میں ہر دور کے نبی کے حوالے سے فلم بنائی گئی ہے، ان میں سے ایک فلم حضرت یوسف علیہ السلام پر مبنی ہے جو کہ شاید ایران اور مصریوں نے بنائی ہیں کیا صرف معلومات کے لئے اس کا دیکھنا درست ہے ؟
انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین و اولیاءِ عظام کے واقعات کے مصوَّر فلم بنانا دیکھنا دکھانا ہر گز جائز نہیں، بلکہ ان بزرگ و مقدَّس شخصیات کی توہین و بے حرمتی کی بنا پر اس عمل میں شدید و بال کا اندیشہ ہے اس کی بہت سے وجوہات ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:
۱۔ قرآنِ کریم کے مضامین اور ان بزرگ شخصیات کے واقعات جس عظمت و جلال کے حامل ہیں اس کا تقاضہ یہ ہے کہ ان کو انہی الفاظ میں پورے ادب و احترام کے ساتھ پڑھا اور سنا جائے کہ جن الفاظ میں وہ منقول ہیں اس کے برعکس پیشہ ور اداکاروں اور بہروپیوں کو مقدس ومسلم شخصیات کی مصنوعی شکل میں پیش کر کے ان سے عظیم واقعات کی نقالی کرانا آیاتِ قرآنیہ کو کھیل تماشہ بنانے کے متراف ہے جو بنص قرآن حرام ہے، آیت یہ ہے:
۲۔ کوئی فلم جانداروں کی تصاویر سے خالی نہیں ہوتی اور جانداروں کی تصاویر بنانا ، دیکھنا اور دکھلانا شرعا جائز نہیں ،لہذا مذکورہ قرآنی مضامین اور انبیاء علیہم السلام اور اور صحابہ رضی اللہ علیہم کے واقعات کو ایسے ذرائع سے پیش کرنا جو درجنوں احادیث کے رو سے ناجائز ہے نہ صرف حرام بلکہ قرآنِ کریم اور ان پاکیزہ شخصیات کی تو ہین کے متراف ہے۔
۳۔ واقعات کی فلم اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک اس میں عورتوں کے کردار نہ ہو چنانچہ مذکورہ فلموں میں بھی یقینی طور پر کردار موجود ہیں اور خواتین کے لئے بے حجاب مردوں کے سامنے آنا یا ان کی تصاویر کا بلا ضرورت نامحرموں کو دکھلانا قرآن و حدیث کے رو سے بالکل نا جائز ہے اور نا جائز کام مضامین قرآنی بیان کرنے کے لئے ذریعہ بنانا بھی نہ صرف حرام بلکہ آیاتِ قرآنیہ اور ان بزرگ شخصیات کی تو ہین کے متراف ہے۔
۴۔ فلم کا اصل منشا تعلیم و تبلیغ نہیں، بلکہ تفریحِ طبع اور کھیل تماشوں سے لذت حاصل کرنا ہوتا ہے لہذا مذکورہ فلموں کو دیکھنے والے تفریحِ طبع کی غرض سے فلم دیکھیں گے نہ کہ علم، عبرت یا نصیحت حاصل کرنے کے لیے جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ اگر یہی مضامین اپنی اصلی صورت میں وعظ و تذکیر کے لئے بیان کیے جاتے ہیں تو یہ لوگ اس میں شریک ہونے کے لئے تیار نہ ہوتے اس لئے مذکورہ قرآنی مضامین اور بزرگوں کے واقعات کے دیکھنے دکھانے کا مقصدِ اصلی کھیل تماشہ سے لذت حاصل کرنا اور تفریحِ طبع کو بنا لینا کسی بھی طرح جائز نہیں۔
مذکورہ بالا وجوہ کی بناء پر نیز دوسرے متعدد مفاسد کے پیش نظر ایسی فلموں کا بنانا، دیکھنا، دکھانا یا اس سی ڈیز کی خریدو فروخت سب ناجائز ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔ اور ایسی فلمیں بنانے والے سخت گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں، جس سے بصدقِ دل توبہ کریں اور آئندہ کے لئے اس طرح کے امور سے احتراز کریں اور جو لوگ ایسی فلمیں دیکھتے ہیں وہ سخت گنہگار ہو تے ہیں، عام مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ انہیں اس فعل سے باز رہنے پر آمادہ کریں اور اگر وہ اپنے اس ناجائز عمل سے باز نہ آئے تو ان کے ساتھ قطعِ تعلق بھی کیا جا سکتا ہے اور حکومت کا بھی فرض ہے کہ نہ صرف یہ کہ ایسی فلمیں دکھانے سے باز رہے، بلکہ آئندہ اس طرح کی فلموں کی نمائش کا مکمل طور پر سدِ باب کریں۔
{وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَذَكِّرْ بِهِ أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ } [الأنعام: 70]