گناہ و ناجائز

گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے اسقاط حمل کرنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
17403
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے اسقاط حمل کرنا کیسا ہے؟

میں کنیڈا میں رہتی ہوں ، شادی 2006ء میں ہوئی اور میری عمر 25 سال ہے، شادی کے بعد میرا خاوند مجھ سے کہتا ہے کہ میرا ہاتھ بٹھاؤ جیسے بازار سے چیزیں لانا اور ان کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا یہاں ہمارا اپنا کوئی نہیں، اس لئے سارا کام خود کرنا پڑتا ہے ۔ میری تین بیٹیاں ہیں سب سے بڑی 2007ء میں دوسری ۲۰۰۹ء میں اور تیسری ۲۰۱۱ میں پیدا ہوئی، تینوں بیٹیاں ابھی چھوٹی اور نا سمجھ ہیں خود سے کوئی کام نہیں کرتی۔ اب میں پھر سے پریگنینٹ ہوں، میرے لئے بہت مشکل ہوتا ہے، کیونکہ تینوں میری اجازت کے بغیر کچھ نہیں کرتی ، ایک بچی سکول جاتی ہے۔ کیا میں اپنا حمل گرا سکتی ہوں ؟ کیونکہ ابھی میرے حمل کے چالیس دن ہوئے ہیں ۔ جزاک اللہ !

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ کے لیے محض مذکور عذر کی وجہ سے حمل گرانا درست نہیں، اس سے احتراز چاہیے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 17403کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات