گناہ و ناجائز

دواء سازکمپنی کے پراویڈنٹ فنڈ سے ملنے والا منافع لینے کاحکم

فتوی نمبر :
17263
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

دواء سازکمپنی کے پراویڈنٹ فنڈ سے ملنے والا منافع لینے کاحکم

السلام علیکم !
محترم مفتی صاحب! میں ایک دوائی بنانے والی کمپنی میں کام کرتا ہوں،پراویڈنٹ فنڈ پر ملنے والے نفع سے متعلق جاننا چاہتا ہوں، میری کمپنی کچھ فیصد میری تنخواہ سے کاٹتی ہے اور اتنے ہی فیصد کمپنی اپنی طرف سے شامل کر کے مختلف اسکیموں میں جمع کراتی ہے مثلاً اسٹاک ایکسچینج ، سرٹیفکیٹس اور فکس ڈپازٹ وغیرہ میں، میں اس نفع سے متعلق جاننا چاہتا ہوں کہ کیا یہ حلال ہے یا حرام؟ براہ کرم میری راہ نمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

پراویڈنٹ فنڈ کی دو قسمیں ہیں :(1) جبری (۲) اختیاری
جبری پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے پھر مجموعہ کو بینک وغیرہ میں رکھوا کر اس پر جو رقم سالانہ بنام سود حاصل کرتا ہے ، اور اس رکھوانے میں ملازم کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا، شرعا ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں در حقیقت تنخواہ ہی کا ایک حصہ ہیں اگرچہ سود یا کسی اور نام سے دی جائیں، لہذا ملازم کوان کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے۔
جبکہ پراویڈنٹ فنڈ کی دوسری قسم اختیاری ہے جس میں ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے رقم کٹواتا ہے اس میں پہلی دو رقمیں تو درست ہیں، البتہ اس میں تیسری رقم جو محکمہ بنام سود دےگا، اس میں تشبہ بالربا ہے، اس لیے اس کا لینے اور اس کو اپنے استعمال میں لانے سے اجتناب کرنا چاہئے اور ایسی رقم کسی مستحق زکوۃ کو بطور معاونت دی جائے تو اس میں شرعا حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك اھ (7/ 300)۔
و في الفتاوى الهندية: ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها كذا في شرح الطحاوي وكما يجب الأجر باستيفاء المنافع يجب بالتمكن من استيفاء المنافع إذا كانت الإجارة صحيحة اھ (4/ 413) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عطاء الرحمن حنیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 17263کی تصدیق کریں
0     24
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات