۱۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا اذان ہر نماز کے لئے دینا ضروری ہے؟
۲۔ اگر اذان زوال کے وقت کے دوران دی جائے تو کیا نماز درست ہو جائےگی؟
۳۔ ایسا شخص جس کی داڑھی مکمل نہ ہو تو اس کی اذان دینے کے بارےمیں شرعاً کیا حکم ہے؟
۱۔ اذان ہر نماز کے لئے سنتِ مؤکدہ ہے، لہٰذا ہر نماز کے لئے علیحدہ اذان دی جائے۔
۲۔ وقت سے پہلے اذان کا اعتبار نہیں، وقت داخل ہونے پر اس کا اعادہ لازم ہے , ورنہ وقت داخل ہونے کے بعد نماز تو ادا ہو جائےگی، مگر ترکِ اذان کا گناہ ہوگا۔
۳۔ ایک مٹھی کے برابر داڑھی رکھنا باجماع اُمت واجب ہے اور جو شخص داڑھی منڈواتا ہو یا ایک مٹھی بھر سے کم کرواتا ہو , شرعاً یہ فاسق ہے اور فاسق کی اذان اگرچہ مکروہ ہے، مگر اس کا اعادہ نہیں۔
و فی الدر المختار: و هو سنة) للرجال في مكان عال (مؤكدة) هي كالواجب في لحوق الإثم (للفرائض) الخمس (في وقتها اھ (1/ 384)-
و فی الفتاوى الهندية : و يكره أداء المكتوبة بالجماعة في المسجد بغير أذان و إقامة . كذا في فتاوى قاضي خان اھ (1/ 54)-
و فیها أیضاً : تقديم الأذان على الوقت في غير الصبح لا يجوز اتفاقا اھ (1/ 53)-
و فی بدائع الصنائع : لو أذن قبل دخول الوقت لا یجزیه و یعیده إذا دخل الوقت فی الصلاة کلها اھ (۱/ ۱۵۴) -
فی سنن النسائي : عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : «أحفوا الشوارب، و أعفوا اللحى» اھ (1/ 16)-
و فی الفتاوى الهندية : و يكره أذان الفاسق و لا يعاد . هكذا في الذخيرة . (1/ 54)-