بعض علماء کا کہنا ہے کہ لنگی کا پہننا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے لہذا شلوار اور ٹراؤزر سے لنگی پہنا بہترہے، لیکن احسن الفتاوی کے مصنف مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب کا کہنا ہے کہ لنگی کا پہننا سنت شرعی نہیں، بلکہ سنت عادت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شلوار پسند تھی۔ اب میں سنت شرعی اور سنت عادت میں تشویش میں پڑ گیا ہوں براہ کرم یہ واضح کریں کہ آیا لنگی افضل ہے یا شلوار پہننا افضل ہے۔ شریعت کی روشنی میں بتا دیں؟
اگرچہ شلوار اور لنگی دونوں کا پہنا جائز اور درست ہے، مگر شلوار میں زیادہ ستر ہے، اس حیثیت سے اس کا پہنا زیادہ بہتر ہے۔
ففي مختصر الشمائل المحمدية لأبو عيسى الترمذي: عن أبي بردة عن أبيه قال: ( أخرجت إلينا عائشة رضي الله عنها كساء ملبدا وإزارا غليظا فقالت : قبض روح رسول الله صلى الله عليه وسلم في هذين ) اھ (ص: 19)
و في سنن ابن ماجه: عن سويد بن قيس قال: «أتانا النبي صلى الله عليه وسلم فساومنا سراويل» اھ (2/ 1185) واللہ اعلم بالصواب
کیا مرد کے لیے ہر وقت شلوار قمیص پہننا اور عورت کے لیے حجاب کرنا لازم ہے؟
یونیکوڈ لباس کے آداب و احکام 0