السلام علیکم !سورۃبنی اسرائیل آیت نمبر71کے مطابق کیا مسلمان کوکسی امام سے بیعت لینا ضروری ہے؟میں اہلسنت سے تعلق رکھتاہوں، رہنمائی کیجیے۔ جزاک اللہ
اولاًتو سائل پر لازم ہے کہ وہ خود سے ترجمہ قرآن کریم پڑھنے اور پھر اس کی تفسیر بیان کرنے سے احتراز کرے کہ اس طرح کسی مستند عالم دین کی نگرانی کے بغیر خود سے پڑھ کر گمراہ ہونے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی انگریزی پڑھنے پر قدرت رکھنے والا ڈاکٹر کی کسی کتاب سے کسی مریض کو نسخہ لکھ کر دیدے اور کسی مستند ومعتمد ڈاکٹر سے رجوع نہ کرے۔تاہم آیت کریمہ میں مذکور لفظِ امام کی مراد میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں، بعض نے امام سے مراد ’’مقتدیٰ‘‘ ’’اعمال نامہ‘‘، یا اس قوم پر نازل شدہ کتاب وغیرہ پر مبنی ہیں۔ اور اس سلسلہ میں مزید تفسیری اقوال جاننے کے لیے کتب تفسیر کے مطالعہ کی ضرورت ہے، جبکہ بیعت سے متعلق احکام جاننے کیلیے ،"التکشف "مؤلف حضرت مولانااشرف علی تھانوی ؒ،’’سلوک واحسان ‘‘مولاناابو الحسن علی ندوی ،’’دلائل السلوک‘‘ مو لانا اللہ یار خان وغیرہ کتب ملاحظہ ہوں۔
ففی روح المعانى: ﴿يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُناسٍ بِإِمامِهِمْ ﴾(الی قولہ)والإمام المقتدى به والمتبع عاقلا كان أو غيره أي ندعو كل أناس من بني آدم الذين فعلنا بهم في الدنيا ما فعلنا من التكريم وما عطف عليه بمن ائتموا به من نبي أو مقدم في الدين أو كتاب أو دين فيقال : يا أتباع فلان يا أهل دين كذا أو كتاب كذا وأخرج ابن مردويه عن علي كرّم اللّه تعالى وجهه قال : قال رسول اللّه صلّى اللّه عليه وسلّم في الآية : يدعى كل قوم بإمام زمانهم كتاب ربهم وسنة( الی قولہ) عن ابن عباس أنه قال : إمام هدى وإمام ضلالة. - (8 / 114) واللہ أعلم بالصواب!
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے آپسی معاملات کو بیان کرتے ہوۓ ان کے لۓ نامناسب الفاظ استعمال کرنا
یونیکوڈ ثواب والے اعمال 0