کیا عورت کے لیے اپنے بالوں کو کاٹنا جائز ہے؟ میں نے پڑھا ہے کہ جائز نہیں، اس میں تشبہ کافرو عورتوں کے ساتھ ہے، میری بیوی پورا حجاب کرتی ہے، اور اس کے لیے لمبے بالوں کو سنبھالنا مشکل ہوجاتاہے، اگر وہ اپنے بال کندھوں یا پیٹھوں تک کاٹے تو جائز ہے یا نہیں؟کیونکہ وہ باہر ہر وقت حجاب میں رہتی ہے ، اس کے بال صرف محرم دیکھ سکیں گے، اس کی تشبہ یا فیشن کرنے کی کوئی نیت نہیں ہے۔
عورت کا اپنے سر کے بالوں کو اس حد تک کاٹنا کہ مردوں کے ساتھ مشابہت ہونے لگے قطعا ناجائز اور حرام ہے ، اگر چہ شوہر کی اجازت سے ہی کیوں نہ ہو ، اس لیے سائل کی بیوی کو اس طرز عمل سے احتراز چاہیئے۔
کما فی الدر المختار: (و) يستحب (حلق عانته وتنظيف بدنه (الی قولہ) وفيه: قطعت شعر رأسها أثمت ولعنت زاد في البزازية وإن بإذن الزوج لأنه لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق، ولذا يحرم على الرجل قطع لحيته، والمعنى المؤثر التشبه بالرجال الخ (6/406)۔