السلام علیکم !
اسمگل شدہ مال جو افغانستان کے راستے پاکستان آتا ہے، جس پر کوئی ٹیکس نہیں دیا جاتا ،اور راستے میں کسٹم حکام اور پولیس کو رشوت دے کر بارڈر پار کروایا جاتا ہے، اور پھر اسی طرح رشوت دے کر پاکستان کے مختلف شہروں میں بھیجوایا جاتا ہے، کیا یہ کام حلال ہے یا حرام ؟ آسان زبان میں کیا چوری شدہ مال حلال ہے یا حرام ؟ اور اس کاروبار میں لاقانونیت جنم لیتی ہے اس قسم کا روزگار جائز ہے یا نا جائز ؟
ایک ملک سے دوسرے ملک میں مال لانے لیجانے کا جو غیر قانونی طریقہ سوال میں درج ہے ،غیر قانونی ہونے کے علاوہ اگر کسی شخص یا ادارہ سے خرید کر لایا جاتا ہو تو یہ اگر چہ چوری کے زمرے میں نہیں آتا ،مگر اپنی عزت و آبرو کو داؤ پر لگانے کے ساتھ ساتھ غیر شرعی بھی ہے، اس لئے مذکور طریقۂ کاروبار سے احتراز لازم ہے۔جبکہ چوری کا مال ملکیتِ غیر ہے، اور اس کا آگے بیچنا قطعاً جائز نہیں، یہ بیع اصل مالک کے اجازت دینے تک موقوف رہے گی، اس لئے چوری کے مال کی خرید و فروخت سے بھی احتراز لازم ہے۔
ففي الدر المختار: (قوله: أمر السلطان إنما ينفذ) أي يتبع ولا تجوز مخالفته (إلی قوله) أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة اھ (5/ 422)۔
وفى التنوير: (هو من يتصرف فی حق غیرہ بغیر اذن شرعی کل تصرف صدر منه وله، مجیز حال وقوعه انعقد موقوفاً وقف بيع مال الغير لمالكه اھ (۵/ ۱۰۶)-
و في الدر المختار: (و) وقف (بيع الغاصب) على إجازة المالك؛ يعني إذا باعه لمالكه لا لنفسه اھ (5/ 112)-