گناہ و ناجائز

قرعہ اندازی کے ذریعے نکلنے والی موٹر سائیکل کا حکم

فتوی نمبر :
15636
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

قرعہ اندازی کے ذریعے نکلنے والی موٹر سائیکل کا حکم

ایک کمپنی جو موٹر سائیکل فروخت کرتی ہے، اس طرح کہ کمیٹی کی شکل میں ہر رکن ماہانہ قسط جمع کرتا ہے، اور ہر ماہ قرعہ اندازی کے ذریعے جس کی کمیٹی نکلتی ہے، اس کو موٹر سائیکل دیا جاتا ہے، ہر ماہ جس کی کمیٹی نکلتی ہے، وہ باقی اقساط سے بری الذمہ ہو جاتا ہے، کمیٹی کے اختتام پر باقی شرکاء میں موٹر سائیکل تقسیم کر دیے جاتے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مذکور اسکیم شرعی لحاظ سے شرائط فاسدہ پر مبنی ہونے کی وجہ سے جوئے اور سودی معاملات پر مبنی ایک صورت ہے،جو قطعاً ناجائز اور حرام ہے، اس لئے اس اسکیم میں شرکت اور اس کے ذریعے موٹر سائیکل وغیرہ لینے سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي حاشية ابن عابدين: (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص اھ (6/ 403) -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید وزیر رحمن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 15636کی تصدیق کریں
0     428
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات