گناہ و ناجائز

ضمانت پر اجرت لینے کا حکم

فتوی نمبر :
14875
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ضمانت پر اجرت لینے کا حکم

ہماری ایک ٹریول ایجنسی ہے کوئٹہ میں ہمارے پاس IATA کا لائسنس ہے جو کہ سنگا پور سے جاری ہوتا ہے یہ لائسنس لینے کے دو سال بعد تک کارآمد ہوتا ہے۔ ہم ایئر لائن ٹکٹ کا کام کرتے ہیں۔ "IATA" کمپنی ضمانت کے طور پر ستر لاکھ لیتی ہے ۔ ہمارے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے۔ انشورنس کمپنی ضمانت لے رہی ہے ، لیکن انشورنس کمپنی 5 فیصد ٹوٹل رقم میں سے لے گی۔ جو کہ قابل واپسی ہیں۔ اور ایک دو فیصد سروس چارجز اور دوسرے ڈاکو منٹ چارجز وصول کرتی ہے ایک سال تک ۔ میرا سوال یہ ہے کہ دو فیصدلینا کل رقم کا بطور ضمانت جائز ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں مذکور معاملہ سود ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر اھ (5/ 166)
وفى الفتاوى الهندية: قال محمد رحمه الله تعالى في كتاب الصرف إن أبا حنيفة رحمه الله تعالى كان يكره كل قرض جر منفعة قال الكرخي هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد بأن أقرض غلة ليرد عليه صحاحا أو ما أشبه ذلك اھ (3/ 202)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اصلح نسیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 14875کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات