اگر کوئی شخص صحابہ کرام ؓ کی شان میں ایسی سنگین گستاخی کرے کہ جس کو سن کر ایک مسلمان اس شخص کو مارے اور اس کی موت واقع ہوجائے تو اس پس منظر میں ایک سوال ہے کہ اس شخص نے اس کو مارا ہے وہ شریعت کی رو سے مجرم ہے؟ اور سزا کا مستحق ہے یا نہیں؟ یا اس نے ثواب کا کام کیا ہے اور اس کو اجر کی امید رکھنی چاہیے؟
ایسا شخص اپنی غیرتِ ایمانی کی بناء پر اگرچہ عند اللہ ماخوذ نہ ہوگا، مگر دنیوی قانون کے اعتبار سے چونکہ اُسے قتل کرنے کا حق نہیں، اس لیے اس سے مواخذہ ہوسکتا ہے۔
فی البدائع: اما الذی یعم الحدود کلها فهو الامانة وهو ان یکون المقیم للحد هو الامام او من ولاہ الامام وهذا عندنا۔ الخ (ج۷، ص۵۷) واللہ اعلم!