میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرا ایمان تو نہیں جاچکا ہے ایک واقعہ کی وجہ سے جو میری زندگی میں رونما ہوا تھا، سولہ سال قبل امریکہ میں ان لوگوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق ایک فلم دکھائی تھی، جس کو میں نے بدقسمتی سے دیکھا تھا، چند دنوں کے بعد انہوں نے میرے کالج کے اخبار میں ایک کارٹون شائع کیا، اس میں یہ بتلایا گیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام جب اپنے بالوں کی کنگھی کرنا چاہتے تو وہ ہوا میں کھڑے ہوکر بازو کو کھول دیتے جس سے بالوں کی کنگھی ہوجاتی، جب میں نے اس کارٹون کو دیکھا تو میں نے اپنے کمرے کے ساتھیوں کے سامنے وہ کارٹون زور سے پڑھا اور جب میں نے کہا موسیٰ علیہ السلام، تو اس فلم میں ایکٹر کی سوچ میرے ذہن میں آگئی، کیا اس کارٹون کو زور سے پڑھنے کی وجہ سے میرا ایمان چلا گیا ہے؟ میں نادم ہوا ہوں، لیکن میں اب بھی سوچ رہا ہوں کہ کیا میرا ایمان تو نہیں چلا گیا ہے؟
جن لوگوں نے یہ فلم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کارٹون بنائی ہے وہ گناہِ کبیرہ کے مرتکب ہوئے ہیں، ان کے کفر اور ضلالت میں کوئی شبہ نہیں، مگر اس کارٹون یا تحریر کو محض اونچی آواز سے پڑھنا اگر بغرضِ اہانت نہ ہو تو یہ موجبِ کفر وارتداد نہیں، خاص طور پر اس صورت میں جب سائل اس عمل کو خود بھی بُرا سمجھنے کے ساتھ ساتھ اس سے نفرت بھی کرتا ہے تو اس پر کفر بھی طاری نہ ہوگا، وہ بلاشبہ حسبِ سابق مسلمان ہے، تاہم اسے چاہیے کہ آئندہ کیلیے اس قسم کے اُمور سے مکمل طور پر احتراز کرے اور وہ احتیاطاً تجدیدِ ایمان و نکاح کرلے تویہ بہتر ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ أَوْلِيَاءَ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِين﴾ (المائدة: 57)
وقال تعالیٰ ایضًا: ﴿وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَذَكِّرْ بِهِ أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ ﴾ (الأنعام: 70)
وفی صحیح البخاری: عن ابن عباس ان رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم لما قدم مكة ابی ان یدخل البیت وفیه الاٰلهة فامر بہا فاخرجت فاخرج صورة ابراهیم واسماعیل فی ایدیہما من الازلام فقال النبی صلی اللہ علیه وسلم: قاتلهم اللہ لقد علموا ما استقسمابها قط ثم دخل البیت اھ (ج2، ص614)
وفی حاشية ابن عابدين: لأن مناط التكفير، وهو التكذيب أو الاستخفاف عند ذلك يكون أما إذا لم يعلم فلا إلا أن يذكر له أهل العلم الخ (4/ 223) واللہ اعلم بالصواب!