گناہ و ناجائز

ادارے کی طرف سے ملنے والے جبری پراویڈنٹ فنڈ کا حکم

فتوی نمبر :
13462
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ادارے کی طرف سے ملنے والے جبری پراویڈنٹ فنڈ کا حکم

میں گورنمنٹ ملازم ہوں، ہماری تنخواہ سے حکومت ہر ماہ "D.S.op" فنڈ کے نام سے مخصوص رقم کاٹتی ہے،یہ رقم ہم اپنی مرضی سے کم زیادہ بھی کر سکتے ہیں، مالیاتی سال کے آخر میں گورنمنٹ جمع شدہ رقم پر منافع کا اعلان کرتی ہے ،گورنمنٹ کے مطابق وہ یہ رقم مختلف قسم کے کاروبار میں لگاتی ہے، جس کا منافع وہ سب کو تقسیم کرتی ہے ،اور یہ منافع ہر سال بڑھتا ہے اور ریٹائر ڈمنٹ پہ جمع شدہ رقم بمع منافع ہر فرد کو لوٹا دی جاتی ہے،کیا اپنی جمع شدہ رقم کے علاوہ نفع لینا جائز ہے؟
۱:اس اسکیم کا نام "D.S.op" فنڈ ہے ،اور ہر ملازم کے لئے اس میں حصہ لینا ضروری ہے، یہ الگ بات ہے کہ اپنی مرضی سے ہر آدمی کٹوتی کی رقم کو کم زیادہ کروا سکتا ہے۔
۲: ریٹائرمنٹ پر ملازم کو پوری سروس میں جمع شدہ رقم اور اس پر منافع ملا کر دیا جاتا ہے اور منافع کا حساب ہر سال جون کے آخر میں کیا جاتا ہے، اس وقت جو رقم بیلنس میں موجود ہو گی اس پر موجودہ شرح کے حساب سے نفع دیا جاتا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جب مذکور ادارے کی طرف سے ہر ملازم کے لئے پراویڈنٹ فنڈ اسکیم میں شمولیت ضروری ہے، تو یہ صورت جبری پراویڈنٹ فنڈ کی ہوئی ، اور اس صورت میں ملازم کے لئے اس اسکیم سے انتفاع کی اجازت ہے، اور اس پر اضافی ملنے والی رقم سود کے زمرے میں نہیں آتی ۔

مأخَذُ الفَتوی

في البحر الرائق: قوله ( بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن ) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك (7/ 300)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بہادر علی سرور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 13462کی تصدیق کریں
0     431
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات