گناہ و ناجائز

دربار میں جانا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
12058
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

دربار میں جانا کیسا ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ الله وبركاتہ! براہ کرم شرک کے بارے میں بتائیں کہ دربار میں جانا کیسے ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ محض قبرستان جانا شرک نہیں، بلکہ آخرت کی فکر کے لیے بھی کبھی کبھار جانا چاہیے، اور یہ مندوب عمل ہے اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔ تاہم فی زماننا عام طور پر درباروں میں منکرات، بدعات و مشرکانہ اعمال ( مثلا قبر کو سجدہ کرنا وغیرہ) کیے جاتے ہیں جیسا کہ مشاہدہ ہے جو کہ ناجائز و حرام ہیں۔ اس لیے ایسے ناجائز امور اپنا نے سے احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في سنن الترمذي: عن سليمان بن بريدة، عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «قد كنت نهيتكم عن زيارة القبور، فقد أذن لمحمد في زيارة قبر أمه، فزوروها فإنها تذكر الآخرة» و في الباب عن أبي سعيد، وابن مسعود، وأنس، وأبي هريرة، وأم سلمة.: «حديث بريدة حديث حسن صحيح»، " والعمل على هذا عند أهل العلم: لا يرون بزيارة القبور بأسا اھ (3/ 361)
و في رد المحتار تحت: (قوله وبزيارة القبور) أي لا بأس بها، بل تندب كما في البحر عن المجتبى اھ(2/ 242)
و في حاشية الطحطاوي: والمستحب في زيارة القبور إن يقف مستدبر القبلة مستقبلا وجه الميت وأن يسلم ولا يمسح القبر ولا يقبله ولا يمسه فإن ذلك من عادة النصارى كذا في شرح الشرعة اھ (ص: 621)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 12058کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات