السلام علیکم ! ایک لڑکا اپنے والد اور سوتیلی ماں کے ساتھ رہتا ہے ،اس نے ایک بڑی شرم ناک حرکت کی ہے سوتیلی ماں کے ساتھ سونے کے دوران اس نے اپنی انگلیاں اپنے سوتیلی ماں کے مخصوص مقام میں رکھی (یعنی رانوں کے درمیان ) بغیر کسی حائل کے جب اُس کے 10 - 15 سیکنڈ یہ کام کیا کہ وہ بیدار ہوگئی تو وہ بھاگ گیا۔ برائے مہربانی مذکورہ بالا فعل سے متعلق شرعی فیصلہ کیا ہے ؟
کیا اُس کے والد کا نکاح برقرار ہے یا نہیں ؟ اگر نکاح ٹوٹ گیا تو کیا سوتیلی ماں کے لیے اس گھر میں رہنا جائز ہے یا نہیں؟ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا نکاح ٹوٹ چکا ہے اور اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہ سکتی، اب وہ دونوں علیحدہ ہونا نہیں چاہتے جب تک علیحدگی کی کوئی صورت پیدا نہ ہو جائے کہ اس میں بڑی بے عزتی ہے۔ اور جب تک سوتیلی ماں کے بچے کے لیے خرچ کا بندو بست نہ ہو جائے۔
مذکور لڑکے نے جب بغیر کسی حائل (کپڑا وغیرہ ) کے اپنا ہاتھ سوتیلی والدہ کی رانوں کو شہوت کے ساتھ لگایا ہے تو اس کی وجہ سے وہ اپنے شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی ہے ،اب دوبارہ باہم ازدواجی حیثیت سے رہنے کی کوئی صورت نہیں۔ اس لیے مذکور لڑکے کے والد کو چاہیے کہ الفاظ متارکہ " میں نے طلاق دیدی" میں نے آزاد کر دیا وغیرہ بھی کہہ دے تاکہ عورت اپنے ایام عدت کے بعد دوسری جگہ شادی کرنے میں شرعا آزاد ہو جائے۔
كما في الفتاوى الهندية: فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا كذا في فتح القدير (إلی قوله) وكما تثبت هذه الحرمة بالوطء تثبت بالمس والتقبيل اھ (1/ 274)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله أو متاركة الزوج) في البزازية: المتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك اھ (3/ 133) والله اعلم بالصواب