میں گورنمنٹ ملازم ہوں جی پی فنڈ ہمارے لیے اختیاری ہے اس میں سود اور بغیر سود کے کھاتے ہوتے ہیں اس معاملہ میں آپ کی مکمل راہ نمائی چاہتا ہوں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سود کے ساتھ لینا چاہیے کیونکہ یہ حکومت کی طرف سے سہولت ہے جو اپنے تمام ملازمین کو دیا جاتا ہے اور ملازمت کا حصہ ہے۔
پراویڈنٹ فنڈ کی دو قسمیں ہیں جبری اور اختیاری، جبری پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے پھر مجموعہ کو بنک وغیرہ میں رکھوا کر اس پر جو رقم سالانہ بنام سود حاصل کرتا ہے اور اس رکھوانے میں ملازم کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا شرعاً ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں درحقیقت تنخواہ ہی کا ایک حصہ ہیں اگر چہ سود یا کسی اور نام سے دی جائیں یہ ملازم کے حق میں سود نہیں ،لہذا ملازم کے لئے ان کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے، جبکہ پراویڈنٹ فنڈ کی دوسری قسم جس میں ملازم اپنی مرضی و اختیار سے اپنی تنخواہ سے رقم کٹواتا ہے اسے اختیاری کہتے ہیں، اس میں پہلی دونوں رقمیں تو درست ہیں البتہ تیسری رقمیں جو محکمہ بنام سود دے گا اس میں تشبہ بالربا ہے، اس لئے اس کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے اور ایسی رقم اگر کسی مستحق کو معاونت کے طور پر دیدی جائے تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
كما في الفتاوى الهندية: ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها كذا في شرح الطحاوي وكما يجب الأجر باستيفاء المنافع يجب بالتمكن من استيفاء المنافع إذا كانت الإجارة صحيحة اھ (4/ 413)۔
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك اھ (7/ 300)۔