گناہ و ناجائز

میزان بینک میں رقم جمع کروانا اور اس کا نفع کھانا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
11026
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

میزان بینک میں رقم جمع کروانا اور اس کا نفع کھانا جائز ہے؟

کیا اسلامی بینک جیسا کہ میزان بینک میں رقم جمع کروانا اور اس کا نفع کھانا پینا جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک اور اسلامی بینک کے فکسڈ ڈیپازٹ میں ’’مضاربہ و مشارکہ‘‘اور مرابحہ شرعیہ کی بنیادوں پر ٹرانزیکشن ہوتی ہے جس کی بناء پر ان بینکوں میں اکاؤنٹ کھلوانے کی اجازت ہے ۔ اور ان کے سیونگ اکاونٹ سے حاصل ہونے والے منافع استعمال کرنے کی بھی اجازت ہے۔ البتہ اگر کسی معاملہ میں واقعۃً کوتا ہی محسوس ہو رہی ہو جیسا کہ اس میں کام کرنے والوں کے عمل سے محسوس ہوتا ہے تو اس کی نشاندہی کر کے اور پوری وضاحت کے ساتھ لکھ کر اس کے متعلق حکم شرعی بھی معلوم کیا جا سکتا ہے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ظہیر یونس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 11026کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات