گناہ و ناجائز

کمزوری کی وجہ سے اسقاطِ حمل کا حکم

فتوی نمبر :
10949
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کمزوری کی وجہ سے اسقاطِ حمل کا حکم

السلام علیکم! محترم جناب گزارش ہے کہ میری بیوی حمل سے ہوگئی ہے دو دن ہی ہوئے جبکہ وہ بواسیر کی مریضہ بھی ہے وہ چاہتی ہے کہ حمل گرادے کیونکہ وہ خود کو کمزور سمجھتی ہے جبکہ میری بچی ابھی ۱۹ ماہ کی ہے کیا کیا جائے حمل گرانے میں گناہ تو نہیں ہوگا (ابھی دو دن ہی ہوئے ہوں گے)۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کی بیوی کو مذکور بیماری کی وجہ سے اتنی کمزوری اور ضعف ہو کہ فی الحال مزید بچے جننے کی طاقت نہ ہو یا اس کی صحت کے زیادہ خراب ہونے کا اندیشہ ہو اور ماہر معالج بھی اسی کا مشورہ دے تو ایسی صورت میں چار ماہ سے پہلے پہلے اس حمل کو ضائع کرنے کی بھی شرعاً گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر: وقالوا یباح اسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو بلا إذن الزوج إلخ. (۳/ ۱۷۶)
وفی الشامیة: تحت (قوله وقالوا الخ) قال فی النهر: بقی هل یباح الاسقاط بعد الحمل؟ نعم یباح مالم یتخلق منه شیئ ولن یکون ذلك الّا بعد مائة وعشرین یومًا (إلٰی قوله) وإطلاقهم یفید عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذکورة علٰی إذن الزوج الخ. (۳/ ۱۷۶) واللہ اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 10949کی تصدیق کریں
0     54
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات