جناب مفتی صاحب ! میرے سوالات ایک پرائیویٹ ادارے کے ملازم کے لیے اسکیم جس کا نام پراویڈنٹ فنڈ ہے۔ اس کے متلعق ہیں سوالات مندرجہ ذیل ہیں۔
۱: اس سکیم کے قانون کے مطابق کوئی ملازم اگر ایک مخصوص شرح تک رقم اپنی تنخواہ سے کٹوائے تو اتنی ہی رقم ادارے کے مالکان کی طرف سے بھی ملائی جاتی ہے۔ اور اگر کوئی ملازم رقم نہ کٹوائے تنخواہ سے تو مالکان کی طرف سے بھی کوئی رقم نہیں ملائی جاتی ہے۔ اب آپ بتائیں کہ مالکان کی طرف سے دی جانے والی یہ رقم ملازمین کے لیے لینا کیسا ہے ؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ پیسے پر پیسے ہیں اس لیے سود ہے ؟
۲: ملازم کی تنخواہ سے کاٹی ہوئی رقم اور مالکان کی طرف سے ملائی ہوئی رقم اس ملازم کو تب دی جاتی ہے، جب وہ ملازمت چھوڑ کر جائے۔ اگر دورانِ ملازمت اس کو رقم کی ضرورت ہو ،تو مخصوص وجوهات بنانے پر مخصوص شرح کی رقم مخصوص شرائط کے ساتھ اُس کو دی جاتی ہے۔ جب تک وہ رقم کسی بینک میں رکھی جاتی ہے جس پر بینک سود دیتا ہے، وہ سود کی رقم کا ملازم کے لیے لینا کیسا ہے؟
۳: عموما پراویڈنٹ فنڈ کی یہ اسکیم اگر ملازم چاہے تو ہوتی ہے، لیکن کبھی مالکان اس اسکیم کو لینے اور کٹوتی کرانے پر مجبور کرتے ہیں، ایسی صورت میں ملازم کیا کرے ؟
پراویڈنٹ فنڈ کی دو قسمیں ہیں (1) جبری (۲) اختیاری
جبری پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے پھر مجموعہ پر جو رقم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے ، شرعا ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں در حقیقت تنخواہ ہی کا حصہ ہیں اگرچہ سود یا کسی اور نام سے دی جائیں لہذا ملازم کوان کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے۔
جبکہ پراویڈنٹ فنڈ کی دوسری قسم اختیاری ہے جس کو ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے کٹواتا ہے اس پر جو رقم محکمہ بنام سود دیگا اس کالینا اور اس کو استعمال میں لانا جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے اس دوسری قسم میں چونکہ تشبہ بالربا کے ساتھ سودخوری کا ذریعہ بنالینے کا خطرہ بھی ہے، اس لئے اس رقم کو وصول ہی نہ کیا جائے یا وصول کر کے بغیر نیت ثواب کی مستحق زکوۃ کو صدقہ کر دیا جائے۔
ففي البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك اھ (7/ 300)
و في الفتاوى الهندية: ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها كذا في شرح الطحاوي وكما يجب الأجر باستيفاء المنافع يجب بالتمكن من استيفاء المنافع إذا كانت الإجارة صحيحة اھ (4/ 413)