کیا بڑوں کو گالی دینا اللہ نے جائز کیاہے؟ کہ وہ بچوں کو گالی دینے سے منع کرتے ہیں اور خود کسی اللہ کی بات پر عمل نہیں کرتے اور بچوں سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے فرمانبردار بنیں، جب کہ اولاد کا کہنا یہ ہے کہ اسماعیل علیہ السلام جیسی تربیت کرنے کے لئے ابراہیم علیہ السلام بننا پڑتا ہے، تو اس کو بھی وہ نہیں مانتے ، مطلب خود بے عمل اور اولاد سے عمل کی امید رکھنا کیسا ہے؟
اگر چہ آدمی خود بے عمل ہو تب بھی اسے اپنے بچوں کی ایسی تربیت کرنی چاہیئے کہ وہ گناہوں سے اجتناب اور گالی گلوج سے نفرت رکھیں ، مگر آدمی خود بھی نیک عملی کا اہتمام کرے تاکہ اس کی بات کا اثر بھی ہو، اور قرآنی وعیدوں سے بھی بچے۔
قال اللہ تعالی: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (2) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ (سورۃ الصف ایة 1۔2)۔
وقال اللہ تعالی: أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (سورۃ البقرۃ ایة 44)۔
وفی المعجم الاؤسط: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَاريُّ، ثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا نَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ حَتَّى نَعْمَلَ بِهِ، وَلَا نَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ حَتَّى نَجْتَنِبَهُ كُلَّهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ، وَإِنْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهِ كُلِّهِ، وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ، وَإِنْ لَمْ تَجْتَنِبُوهُ كُلَّهُ» (6/365 رقم الحدیث 6628)۔