السلام علیکم! مفتی صاحب! آپ سے یہ مسئلہ پوچھنا ہے کہ انٹرنیٹ کیفے کو چلانا جائز ہے یا نہیں؟
کسی انٹرنیٹ کمپنی سے فی نفسہ کنکشن لینے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں، بلکہ جائز اور درست ہے، مگر موجودہ حالات اور آئے دن کی معلومات سے جو بات سمجھ میں آرہی ہے، وہ یہ کہ جتنی فحاشی، بے حیائی اور غیر محرموں کے ساتھ نا جائز تعلقات اور بے تکلفی انٹرنیٹ کے ذریعہ پھیل رہی ہے، اتنی دوسرے ذرائع سے قطعا نہیں پھیل سکتی، لہذا اس کی مذمت ضروری ہے، تاکہ اس کے مفاسد سے لوگوں کو بچایا جا سکے، تاہم انٹرنیٹ کا جائز اور مباح استعمال بھی ممکن ہے، اور اس میں بھی ایک خاص حد تک استعمال کیا جا رہا ہے، لہذا انٹر نیٹ کیفے کھولنے والے شخص کو چاہیے کہ اگر انٹر نیٹ کیفے ہی کھولنا ہے ،تو اپنے کیفے میں غیر شرعی استعمال پر پابندی کی شرط لگادے ،تاکہ معاصی میں معاونت کے گناہ سے محفوظ رہ سکے ،اور اس استعمال کے ذریعہ حاصل ہونے والی آمدنی بھی اس کیلئے بلا شبہ جائز اور حلال ہوگی ،اور اگر ان شرائط کو ملحوظ نہ رکھے، تو پھر اس کی آمدنی ناجائز اور حرام ہوگی، جس سے احتراز لازم ہے۔
ففي حاشية ابن عابدين: (قوله معزيا للنهر) قال فيه من باب البغاة وعلم من هذا أنه لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به كبيع الجارية المغنية والكبش النطوح والحمامة الطيارة والعصير والخشب ممن يتخذ منه المعازف (إلی قوله) (قوله وجاز إجارة بيت إلخ) هذا عنده أيضا لأن الإجارة على منفعة البيت، ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم، ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار فينقطع نسبيته عنه اھ(6/ 392،391) والله تعالی اعلم!