گناہ و ناجائز

انڈیا گورنمنٹ سے سکالر شپ لینا

فتوی نمبر :
10021
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

انڈیا گورنمنٹ سے سکالر شپ لینا

السلام علیکم! انڈیا گورنمنٹ نے اقلیتوں کو وظیفہ دینے کی سکیم چلا رکھی ہے کیا یہ سکالر شپ لینا جائز ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

یہ دینا اگر محض انسانی ہمدردی و دلجوئی کی خاطر ہو، تب تو اس کے لینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، اور اگر اپنا ہمنوا بنا نے, اسلام سے ہٹانے کی لالچ، یا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنا آلہ کار بنانے جیسی اغراض فاسدہ کی بناء پر ہو تو اس صورت میں مذکور وظیفے کا لینا قطعاً جائز نہیں، مسلمانوں کو اس کے لینے سے احتراز اور دوسرے سادہ لوح مسلمانوں کو سمجھانا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كمافي الفتاوى الهندية:هذا هو الكلام في صلة المسلم المشرك وجئنا إلى صلة المشرك المسلم فقد روى محمد رحمه الله تعالى في السير الكبير أخبارا متعارضة في بعضها أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قبل هدايا المشرك و في بعضها أنه صلى الله عليه وسلم لم يقبل فلا بد من التوفيق واختلفت عبارة المشايخ رحمهم الله تعالى في وجه التوفيق (الى قوله) ومن المشايخ من وفق من وجه آخر فقال لم يقبل من شخص علم أنه لو قبل منه لا يقل صلابته وعزته في حقه ويلين له بسبب قبول الهدية وقبل من شخص علم أنه لا يقل صلابته وعزته في حقه ولا يلين بسبب قبول الهدية كذا في المحيط اھ (5/ 347، 348)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد الرزاق عزيز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 10021کی تصدیق کریں
0     491
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات