السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آج کل ٹی وی پر اشتہار آتے ہیں کہ فلاں چیز خرید و تو اتنا انعام ملے گایہاں تک کہ عمرہ اورحج تک کا انعام نکلتا ہے ، اسکی شرعی حیثیت کیا ہے ؟کیا اس انعام سے حج اور عمرہ جائز ہے ؟
اگر اس چیز کی خریداری میں شرعاً کوئی قباحت نہ ہو، نہ یہ معاملہ ربا و قمار اور دیگر شرائط فاسدہ پر مشتمل ہو اور نہ ہی اس انعام کی وجہ سے یہ چیز عام بازاری قیمت سے مہنگے داموں دی جارہی ہو اور اسکی خریداری بھی محض حصولِ انعام کی غرض سے نہ ہوتی ہو، بلکہ ضرورت کے تحت ہوتی ہو تو ایسی صورت میں اس کا خریدنا اور انعام نکلنے کی صورت میں اس کا وصول کرنا ہر دو امور شرعاً بھی جائز اور درست ہیں اور اسطرح کے انعام والا حج اور عمرہ بھی جائز اور ادا شمار ہو گا۔
کما فی الفقه الإسلامي وأدلته : فالشروط العامة هي التي يجب أن تتحقق فی كل أنواع البيع لتعتبر صحيحة مشرعاً و اجمالاً أن يخلو عقد البيع من العيوب الستة وهي الجهالي والاكراه والتوقيت والغرى والقرى الشديد والشروط المفسدة اھ(379/3)۔